This public link is valid for 7 days and shares a thread, including any personal information you added. This link or copies made by others cannot be deleted. If you share with third parties, their policies apply. Can’t copy the link right now. Try again later.
اس مفصل مضمون میں ہم تورات کی حقیقت، اس کی ساخت، یہودی اور اسلامی تناظر میں اس کی اہمیت، اور اردو زبان میں اس کے تراجم کی تاریخ و دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ تورات کیا ہے؟ (تعریف اور معنی)
برصغیر پاک و ہند میں اردو زبان کے فروغ کے بعد، مقامی مسلم اور غیر مسلم علماء نے بائبل اور توراۃ کو اردو قالب میں ڈھالنے کی کوششیں کیں۔ عیسائی مشنریوں کے تراجم
اسلامی عقیدے کے مطابق، موجودہ دور میں پائی جانے والی تورات (عہد نامہ قدیم کی پہلی پانچ کتابیں) انسانی ردوبدل، تراجم کی غلطیوں اور تحریف (Alteration) سے محفوظ نہیں رہی۔ تاہم، اس میں اب بھی بہت سی سچی تعلیمات اور اخلاقی قوانین موجود ہیں۔
بنی اسرائیل کا مصر سے نکلنا اور دس احکامات۔
مسیحی اسے پرانے عہد نامے کا پہلا حصہ تسلیم کرتے ہیں اور اسے کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ اسے خدا کا کلام مانتے ہیں اور اس کی تعلیمات کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
قرآن مجید میں تورات کا ذکر متعدد مقامات پر انتہائی احترام کے ساتھ آیا ہے۔ سورہ المائدہ (آیت 44) میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اگرچہ موجودہ تورات میں انسانی الفاظ شامل ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس میں بہت سے ایسے قصص اور احکامات ہیں جو قرآن مجید سے مماثلت رکھتے ہیں:
Thus, Muslims respect the as divine, but do not follow the current biblical Torah as authoritative scripture.
دانیال اور دس احکامات (Ten Commandments) جیسے قوانین، جو چوری، قتل، اور زنا کی ممانعت کرتے ہیں، دونوں جگہ مشترک ہیں۔ خلاصہ کلام
جدید دور میں عیسائی اور یہودی اداروں کی جانب سے شائع کردہ اردو بائبل انٹرنیٹ پر پی ڈی ایف (PDF) اور موبائل ایپلی کیشنز کی صورت میں آسانی سے دستیاب ہے۔ اسلام اور توریت: تفہیم اور عقیدہ
موجودہ بائبل (پرانا عہد نامہ) میں تورات کو "خمسہ موسیٰ" (Pentateuch) کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پانچ حصوں پر مشتمل ہے: پیدائش (Genesis):